بھٹکل:3 دسمبر (ایس او نیوز)تعلقہ کے کونار گرام پنچایت علاقےمیں راشن کارڈ کی تقسیم کا مسئلہ پیچیدگی کا شکار ہوگیا، لیکن مقامی پنچایت حل ڈھونڈنے کے بجائے غفلت برتنے کا الزام عائدکرتے ہوئے علاقہ کے عوام نے پنچایت دفتر کا گھیراؤ کرنےکاواقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا ہے۔
کونار گرام پنچایت پہاڑی سلسلے سے گھرا ہوا علاقہ ہے، راشن کے لئے صبح سویرے 5بجے خستہ سڑکوں سے چل کر آنا پڑتاہے، اتنی تکلیف اور پریشانی اٹھا کر پہنچتے بھی ہیں تو راشن ملنے کا کوئی امکان نہیں رہتاہے ، راشن تقسیم کاری کی ذمہ دار کرشی ہوٹوولی ماراٹ سہکاری سنگھا نے کئی مرتبہ اس سے پلہ جھاڑتے ہوئے لکھ کر دیا ہے، مقامی اداروں کو راشن تقسیم کاری کی ذمہ داری دینے میں افسران پس و پیش کا شکار ہیں۔ گذشتہ 2011 سے مقامی پنچایت اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں لے سکی ہے، مگر ایک ایسے وقت جب پنچایت کو مقامی کسی ادارے کو اس کی ذمہ داری سونپ کر راشن کی تقسیم کاری کرنے کے بجائے خود کرنے کی بات کہنا کئی شبہات کو جنم دے رہاہے۔ 6نومبر کو پنچایت ایک فیصلہ لیتے ہوئے اداروں کو یہ ذمہ داری سونپنے کی بات کہی تھی اب اچانک اس کا فیصلہ بدلنا سیاست ہونےکا شک ہے۔ ان تمام جھمیلوں سے راشن کی تقسیم کاری میں مزید دیری ہوسکتی ہےاور احتجاجیوںنے الزام لگایا کہ مقامی غریبوں پر اس کے بہت برے اثرات پڑیں گے۔ پنچایت کے دفتر میں ایک بھی عملہ نہیں ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے دیہی عوام نے سوالات کی بوچھار کردی۔ کونار پنچایت دفتر گھیراؤ کی جانکاری لیتے ہوئے مقامی تحصیلدار وی این باڈکر ، غذائی افسر پروین ، پنچایت ترقی افسر مہیش جائے وقوع پہنچ کر احتجاجیوں کی شکایتوں کو سنا۔ اعلیٰ افسران کے مطابق خصوصی میٹنگ منعقد ہوگی۔ میٹنگ کے فیصلے کے مطابق راشن کی تقسیم ہوگی ۔ اس موقع پر پی ڈی اؤ مہیش نے تحصیلدار کو بتایا کہ میٹنگ میں جو قرار دادمنظور ہوئی ہے اس میں رکاوٹیں ہیں، تو تحصیلدار باڈکر نے کہاکہ پنچایت کی قرار داد اور پی ڈی اؤ کے تبصرے پر غور کیا جائے گا، اور جن اداروں نے راشن تقسیم کاری کے متعلق عرضی لگائی ہے اصول اور اہلیت کے مطابق انہیں ذمہ داری دینے کی بات کہی۔